قوئیلیم شیخ ولیم ہنری عبداللہ قوئیلیم کی یاد میں قائم کیا گیا تاکہ ایک حقیقی برطانوی اسلام کی افزائش کی جائے، ان جزیروں سے وابستہ اور عربوں اور اسلامی دنیا کی تلخ سیاست کے اثرات سے پاک۔ شیخ ولیم ہنری عبداللہ قوئیلیم (1932-1856) لیور پول، انگلینڈ کے ایک مقامی انگریزوکیل تھے۔ انھوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا۔ انھوں نے اور ان کے بہت سے ساتھیوں نے رضاکارانہ طور پر اسلام قبول کیا اورلیور پول میں برطانیہ کی پہلی مسجد تعمیر کی جسے اب قومی ورثہ قرار دیا جاتا ہے۔ انیسویں صدی کے مسلمانوں کی قوئیلیم کی برادری برطانوی اسلام کے اجداد کی حیثیت رکھتی ہے۔
برصغیر سے مسلمانوں کی وسیع پیمانے پر ہجرت، جو ایک خوش گوار پیش رفت تھی، سے ہمیں برطانوی اسلام کی تاریخ کو سمجھنے میںکسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔ چند ماہرین یہاں مسلمانوں کی موجودگی کا سراغ آٹھویں صدی میں جا کر تلاش کرتے ہیں اور مارسیا، جسے اب انگلش مین لینڈ بھی کہا جاتا ہے، کے بادشاہ اوفا (وفات796 عیسوی) کے جاری کردہ سکّوں کا حوالہ دیتے ہیں۔ اپنی کتاب ’کینٹبری ٹیلز‘ (1386) کے دیباچے میں چاؤسر نے ایک 'doctour of physik' کا ذکر کیا ہے جس نے مسلمان ماہرین سے تربیت حاصل کی۔ ٹیوڈر اور الزبتھ کے دور میں ادب اور تجارت پر مسلمانوں کے اثرات واضح ہیں۔مثال کے طور پر کینٹ کے کیپٹن جان وارڈ (http://www.masud.co.uk/ISLAM/ahm/ward.htm) نے اپنے زمانے کا ایک نصیحت آموز قصہ بیان کیا ہے۔ تاہم پہلی مقامی مسلمان برادری جس نے انگلش مین لینڈ میں برطانوی شہریوں کی فلاح کا کام شروع کیا، لیور پول میں عبداللہ قوئیلیم کی برادری ہی تھی جو بعدازاں ووکنگ میںلارڈ ہیڈلے کے تحت کام کر رہی ہے۔
‘W.H Quilliam: Britain’s first Muslim Activist?’ by Ashraf al-Hoque
http://www.abdullahquilliamsociety.org.uk/
http://www.masud.co.uk/ISLAM/bmh/bmh.htm
http://www.abdullahquilliamsociety.org.uk
http://www.wokingmuslim.org/pers/quilliam
