
قوئیلیم انتہا پسندی سے متعلق شعور پیدا کرنے کی تربیت دینے والے اولین اداروں میں شامل ہے۔ ہماری انفرادیت یہ ہے کہ ہمارے تربیتی سیشنز میںانتہا پسند اسلامسٹ تنظیموں کے سابقہ اراکین بھی شامل ہوتے ہیں۔ کسی ایسے شخص کے لیے ان تنظیموں کے داخلی طریقہ کارکو سمجھنا بہت مشکل ہے جس نے انتہا پسندی کا براہ راست مشاہدہ نہ کیا ہو۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان کے لیے یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو بھرتی کرنے اورپھر ان کی تربیت کرنے کے ان تنظیموں کے طریقے کو سمجھ پائیں۔
قوئیلیم کے ٹرینرز کی انفرادیت کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ ان میں ایسے موضوع کو گہری بصیرت کے ساتھ واضح کرنے کی اہلیت موجود ہے جس کے بارے میں عام طور پر مسلمانوں میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ ہمارے ٹرینرز جانتے ہیں کہ مغربی تناظر میں اسلام ازم کا کیا مفہوم ہے۔ یہ مغربی تناظر اس سے کہیں مختلف ہے جس انداز میں اسے اسلامی مشرق میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس سے ہماری ٹریننگ کہیں زیادہ متعلقہ ہوجاتی ہے۔
ہماراتربیتی مواد اسلامسٹ تنظیموں کے سابقہ اہم اراکین اور ایسے افراد نے تیار کیا ہے جنھیں تعلیم و تربیت کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ ہم اپنے نصاب پر مسلسل نظرثانی کرتے ہیں تاکہ یہ موجودہ حالات سے جڑا رہے اور تربیت لینے والوں کی ضرورتوں کے مطابق ہو۔
انتہا پسندی سے متعلق شعور کی بیداری کا منصوبہ
(Radicalization Awareness Programme) اسلامسٹ تنظیموں کے
ایسے اراکین نے تیار کیا ہے جنھیں انتہا پسند اسلامسٹ تنظیموں کی چالوں، طریقوں اور حکمت عملیوں کا براہ راست علم اور تجربہ ہے اور جو اس اسلامسٹ آئیڈیالوجی سے بھی گہری واقفیت رکھتے ہیں جسے نئے بھرتی کیے جانے والے مسلمانوں کا ذہن بدلنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان افراد کو اسلامی شعبوں کا بھی علم حاصل ہے اوریہ مختلف نوعیت کے تربیتی پروگرامز تیار اور نافذ کرنے کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔
تربیت کا مقصد یہ ہے کہ درج ذیل امور کے حوالے سے عملی تفہیم پیدا کی جائے:
ہم پراعتماد ہیں کہ ہمارے پروگرامز سول سوسائٹی میں یہ اہلیت پیدا کرسکتے ہیں کہ وہ انتہا پسندی کی علامتوں کو شناخت کرسکے، مذہبی اور نظریاتی بیانات میں فرق کرسکے اور انھیں براہ راست عمل کرنے کے قابل بناسکے جو اس کام کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔ یہ پروگرامز مختلف بیک گراؤنڈ کے حامل پالیسی سازوں اور عملی طور پر متحرک افراد کو اعتماد دینے اور انھیں یقین دہانی کرانے کا باعث بنیں گے کہ جہاں ضروری ہوا، وہاں مداخلت کی جائے۔
